فتح جنگ اٹک کے لوگوں کو بجلی کے بل میں میٹر ریڈنگ کی جگہ چارپائی کی تصویریں موصول
سوال یہ ہے کہ کیا میٹر ریڈر اپنے گھر بیٹھ کے فیک یعنی جعلی میٹر ریڈنگ کر رہا تھا یا کوئی اور بات ہے ؟ جو بات بھی ہے وہ آئیسکو ( واپڈا ) کی طرف سے واضح کی جانی چاہیے . دونوں بل %100 اوریجنل ہیں. ہم نے خود آئیسکو ( واپڈا ) کی ویب سائٹ پے چارپائی والے بل دیکھنے کے بعد پوسٹ کی ہے . اگر کوئی خود بل دیکھنا چاہے تو ہمیں انبکس کر کے ریفرنس نمبر لے سکتا ہے
ایک بل والے بھائی کے بقول یہ ایک بند گھر ہے جسکا بل ہر مہینے 123 روپے آتا ہے لیکن اس دفعہ 983 آیا ہے اور بند گھر کے 104 یونٹ بھی ڈال دئیے گئے ہیں
People of Fateh Jang Attock received pictures of charpai instead of meter readings in their electricity bills.
The question is whether the meter reader was doing fake meter reading while sitting at his house or is it something else?
Whatever the matter is, it should be clarified by IESCO (WAPDA). Both bills are 100% original. We posted after seeing and verifying the ay bill on the website of IESCO (WAPDA). If anyone wants to see the bill himself, he can inbox us and get the reference numbers.
According to the person, one bill is of a foreclosed house whose bill is Rs. 123 every month, but this time it has come to Rs. 983 and 104 units have been shown.
