کیمبل پور کا بیٹا اور کیمبل پور کا داماد
(تحقیق و تحریر : ہادی صاحب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک 1 مارچ 1971 (کیمبل پور)
مجھے آج بھی وہ دن یاد جب کیمبل پور شہر میں ولیمہ کی تقریب جاری تھی اور میں یعنی میجر شیخ نسیم صدیقی، میجر زوالفقار احمد شیخ اور لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود چارہائیوں ہر بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔ ہمارا تعلق بنیادی طور پر چھچھ کے تاجک گاؤں سے تھا لیکن قیام پاکستان سے قبل ہی ہم کیمبل پور شہر سکونت اختیار کر چکے تھے۔ میجر زوالفقار میرعالَم چاچا کا بیٹا اور میرا کزان تھا اور سلطان میرعالم چاچا کے بھائی رحمان چاچا کا داماد اور ہماری کزن نسرین کا شوہر تھا۔ اس کی دو بہنیں کیمبل پور میں سرکاری ملازم تھیں اور انہی کی وساطت سے اس کی شادی ہماری کزن نسرین سے ہوئی تھی ، ویسے اس کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ زوالفقار اگرچہ مجھ سے اور سلطان سے کافی چھوٹا تھا لیکن فوجی ملازمت اور قریبی رِشتہ داری کی وجہ سے ہم تینوں کی آپس میں گہری چھنتی تھی۔ زوالفقار میجر بن چکا تھا لیکن ابھی تک کنوارہ تھا۔ سلطان کوانگریزوں کا ڈیزائن کردہ کیمبل پورشہر بہت پسند تھا اور وہ جب بھی کیمبل پور کی تعریف کرتا تو میں اور زُوالفقار، سلطان کو تنگ کرنے کے لئے کہتے کہ دیکھا ہمارا کیمبل پور ، ہم کیمبل پور کے بیٹے ہیں تو ہر دفعہ وہ ہمیں ڈٹ کر جواب دیتا کہ "تُسی کیمبل پور دے بیٹے ہو تے اسی کیمبل پور دے داماد آں، تے داماد بیٹے توں ود کے ہوندا" ، اور ہم سب اس بات پر زور سے قہقہہ لگاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرقی پاکستان کے حوالے سے روزانہ تشویش ناک خبریں آ رہی تھیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کی وجہ سے کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا۔
1 مارچ 1971 کو شادی کی تقریب کی بعد اپنی اپنی چھاؤنیوں یعنی کوہاٹ(سرحد)، آزاد کشمیر اورچمن (بلوچستان) کی طرف واپس عازم سفر ہونے سے قبل ہم تینوں کی ملاقات ہوئی۔ کسے معلوم تھا کہ اس کے بعد میں کیمبل پور کے بیٹے میجر زوالفقار احمد شیخ اور کیمبل پور کے داماد لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود سے پھر کبھی نہ مل سکوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارہ 12 مارچ 1971 (کوئٹہ)
تقریب سے واپس آزاد کشمبیر پہنچتے ہی بطور کمانڈنگ آفیسر ترقی پانے والے سی او 22 بلوچ لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود نے اپنی فیملی کے ساتھ 1966 ماڈل کی واکس ویگن نمبر ایل ای جی 1970 پر بذریعہ سڑک اپنی نئی تعیناتی کی جگہ، یعنی کوئٹہ روانہ ہوئے۔ 10 مارچ کو کوئٹہ پہنچتے ہی لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود اور 16 انفنٹری ڈویژن کو ہنگامی بنیادوں پر مشرقی پاکستان پہیچنے کا حکم ملا اور ریکارڈ چھ یوم میں پوری انفنٹری ڈویژن کو بذریعہ فضائیہ مشرقی پاکستان پہیچا دیا گیا ، کیونکہ
"عوامی لیگ کے منتخب نمانندگان کو اقتدار کی منتقلی کی بجائے ، عوامی لیگ کے خلاف 25 مارچ 1971 کو "آپریشن سرچ لائیٹ" کے نام سے فوجی آپریشن کے آغاز کا فیصلہ کیا جا چکا تھا"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا باب
تئیس 23 مارچ 1971 (یوم پاکستان - ڈھاکہ)
مغربی پاکستان میں یوم پاکستان روایتی جوش و خروش سے منایا جا رہا تھا لیکن ڈھاکہ میں سلطان کے سامنے کچھ اور ہی سماں تھا۔ پاکستان کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ اورڈھاکہ کی اکثریتی عوام نے یوم پاکستان کو "یوم مزاحمت" کے طور پرمنایا۔ پورے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے پرچم لہرا رہے تھے اور شیخ مجیب الرحمن کی تصویریں آویزاں تھیں۔ صورتحال اس حد تک خطرناک ہو چکی تھی کہ ڈھاکہ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر رابندرناتھ ٹیگور کا مشہور نغمہ "سنار بنگلہ" قومی ترانے کے طور پر نشر کیا جا رہا تھا۔ مجیب کے گھرپر بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا گیا اور مجیب نے باقاعدہ اسے سلامی دی۔ پورے ڈھاکہ میں پاکستان کا پرجم صرف دو مقامات یعنی گورنمنٹ ہاؤس اورمارشل لا ہیڈ کوارٹر پر لہرایا جا سکا۔
بنیادی طور پر 23 مارچ 1971 کو قائد اعظم کا پاکستان دو حِصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچیس 25 مارچ 1971 (آپریشن سرچ لائیٹ - ڈھاکہ)
24 اور 25 مارچ کی درمیانی رات مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائیٹ کے نام سے فوجی کاروائی کےآغاز کے ساتھ ہی ریڈیو پر شیخ مجیب الرحمن کی جانب سے آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔ 25 مارچ کی صبح تک ڈھاکہ شہر میں طاقت کے بے دریغ استعمال کے بعد حکومتِ پاکستان کی رِٹ بحال ہو چکی تھی۔ پورے ڈھاکہ شہر میں فوجی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کے علاوہ ہو کا عالم تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال اور جگن ناتھ ہال جو کہ تحریک پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کی طرح بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کا مرکزو محور تھے، ایک دہشت ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ مجیب کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اگرچہ آپریشن سرچ لائیٹ سے قبل بھی حالات بہت خراب تھے لیکن فورسز کا ڈسپلن قائم تھا اور بنگالی فوجی اور ایسٹ پاکستان رائفلزحکومتِ پاکستان کے احکامات کی پابندی کر رہی تھیں لیکن آپریشن شروع ہوتے ہی انگریزوں کی تربیت یافتہ اور ڈسپلن و نظم وضبط کی پابند فوج میں مکمل بغاوت ہو چکی تھی اور بنگالی فوجی افسران / جوانوں / ایسٹ پاکستان رائفلز / بنگالی پولیس نے پاکستانی فورسز کے خلاف بغاوت کر کے ہتھیار اٹھا لئے تھے اورمکتی باہنی کی تشکیل کے بعد اس میں باقاعدہ شمولیت آختیار کر لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سولہ 16 اپریل 1971 (آپریشن سرچ لائیٹ – مشرقی پاکستان)
چٹاگانگ ، کشتیہ، راجشاہی ، جیسور اور پنبہ میں بنگالی فوجی دستوں اور عوامی لیگ کی جانب سے شدید مزاحمت اور دونوں اطراف شدید جانی نقصان کے بعد 16 اپریل 1971 کو اگرچہ بظاہر حکومتِ پاکستان کی رِٹ بحال ہو چکی تھی لیکن اس دوران ان گنت بنگالی اس آپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ یہ کنٹرول طاقت کے بل بوتے پر قائم تھا اور اس کا دلوں پر حاکمیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حکومتِ پاکستان کی جامب سے بین الاقوامی میڈیا کو مشرقی پاکستان سے نکل جانے کا حکم دینے کا بہت منفی عمل ہوا اور بہت سے غیر ملکی صحافیوں نے کلکتہ کو اپنا مسکن بنا لیا اور مشرقی پاکستان سے بھارت ہجرت کرنے والوں کی درد ناک کہانیاں سن کربنگالیوں کی نسل کشی اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس المیے کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران مکتی باہنی نے نہ صرف پاکستانی فوجیوں، بہاریوں اورغیربنگالیوں کو بے دردی سے قتل کیا بلکہ انکہ بال بچوں کو بھی سفاکانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین 3 دسمبر 1971 (مشرقی پاکستان)
3 دسمبر 1971 کو ہندوستان نے باقاعدہ طور پر مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن 16 اپریل سے لیکر 3 دسمبر کے درمیانی عرصے میں مشرقی پاکستان سے حکومتی رِٹ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ جون اور جولائی کے مہینے میں مکتی باہنی نے پاکستانی فورسز کے خلاف منظم ہو کر ابتدائی کاروائیاں شروع کر دی تھیں ۔ اگست و ستمبر میں وہ بڑی فوجی کاروائیاں کرنے ، بحری جہاز ڈبونے اور اہم شخصیتوں کو قتل کرنے لگے تھے۔ اکتوبرو نومبر میں ان کی قوت میں شدید اضافہ ہو گیا تھا اور مسلسل لڑائی، موسم و حالات سے ناواقفیت، مقامی آبادی کی جانب سے تعاون نہ ملنے پر پاکستان فوج کا مورال شدید گر چکا تھا۔ پڑھے لکھے فوجی افسران اعلانیہ کہنے لگے تھے کہ ایک قوم اگر ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو انہیں صلح صفائی سے الگ کر دو۔ اور وہ جذباتی فوجی جوان جو کفر اور اسلام کی جنگ سمجھ کر یہاں آئے تھے وہ یہ دیکھ کر حیران تھے کہ لڑنے والی دونوں قوتیں کلمہ گو اور مسلمان تھیں۔ نشے میں دھت یحیحی خان ہو یا بڑھکنے لگانے والا جنرل نیازی ہو یا غیر حقیقت پسندانہ سوچ رکھنے والی فوجی قیادت ، سب سامنے ابھرتی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ 3 دسمبر کو باقاعدہ جنگ کے آغاز اور 16 دسمبرکو باقاعدہ ہتھیار ڈالنے سے بہت قبل یعنی نومبر کے ماہ ہی سے مختلف سیکٹرز میں بھارتی افواج کے سامنے ہٹھیار ڈالنے اور پسپائی کا سلسلہ جاری تھا اور ہتھیار ڈالنے ولوں میں کرنل اور برگیڈیئررینک کے افسران تک شامل تھے۔ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی شہادتوں / زخمیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا لیکن جنرل یحیحی خان اور جنرل نیازی و فوجی قیادت حالات کو جانچ نہ سکے اورغیر حقیقت پسندانہ احکامات کا سلسلہ جاری رہا اور ایک دن انہی غیرحقیقت پسندانہ احکامات میں سے ایک حکم لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کو موصول ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا باب
لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود شہید
مشرقی پاکستان کے غیر موافق حالات میں ایک دن جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل قاضی مجید نے کرنل سلطان اور 22 بلوچ کو ایک ناممکن خود کش مشن کا ٹاسک دیا۔ کرنل سلطان نے اسی مشن کو بہتر تیاری کے ساتھ ایک متبادل پلان کے تحت کرنے کا کہا جس میں جوانوں کی شہادتوں کا امکان بھی کم تھا۔ میجر جنرل قاضی مجید نے کرنل سلطان کی رائے ماننے کی بجائے انہیں فوری طور پر ہیڈ کوارٹر ایسٹرن کمانڈ رپورٹ کرنے کے لئے کہا اور سیکنڈ ان کمانڈ کی زِیر قیادت 22 بلوچ کو اس مشن پر روانہ کر دیا جو کہ ناکام رہا اور اس میں بہت زیادہ شہادتیں ہوئیں۔ (ان حقائق کی تصدیق کرنل طاہرکاردار نے بھی کی جو کہ اس وقت 22 بلوچ کے کمانڈنگ آفیسر تھے) ۔
لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود نے ہیڈ کوارٹر ایسٹرن کمانڈ رپورٹ کیا جہاں انہیں 32 بلوچ کی کمان دے کرناٹور سیکٹر(بوگرہ) میں 205 برگیڈ کے برگیڈیئر تجمل حسین ملک کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔
ہندوستان ناٹور سیکٹر پر ستمبر سے بمباری کر رہا تھا اور ماہ نومبر میں کوئی دن ایسا نہیں تھا جو کہ مکتی باہنی کی کاروائیوں اور ہندستانی فوج کی بمباری کے بنا گزرا ہو اور پاکستانی فوج کی شہادتوں اور زخمیوں میں روز اضافہ ہو رہا تھا۔ 3 دسمبر کو جنگ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ہندوستان اس سکیٹر کے بہت بڑے حِصے پر قابض ہو چکا تھا اور جنگ کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی ہندستانی فضائیہ کے حملے بھی شروع ہو چکے تھے۔ 8 دسمبر کواسی سیکٹر میں ھلّی کے محاذ پر میجرمحمد اکرم بہادری کی داستانیں رقم کرتے ہوئے شہید ہو گئے جنہیں بعد از شہادت نشان حیدرکے اعزاز سے نوازا گیا۔
جب ہندوستان میجر اکرم سے نبٹ رہا تھا تو اس کے ایک اور دستہ نےدریائے کراٹوا کو پار کر لیا ،جسے ہماری فوج کے اندازے کے مطابق پارکرناناممکنات میں سے تھا۔ ہندوستان راتوں رات رِنگ پور بوگرہ روڈ پر پیر گنج کے مقام پر پہنچ گیا جس کی پاکستانی افواج کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ لڑائی ابھی سرحد کے ساتھ میجر اکرم کے علاقے میں ہو رہی ہے۔ 7 دسمبر کی سہ پہر کو میجر جنرل نذر حسین شاہ رنگ پور کا دورہ کررہے تھے کہ پیر گنج کے مو ڑ پر ان کی جیپ پر فائرنگ ہوئی اور وہ گاڑیاں چھوڑ کر درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے۔ جنرل نذر حسین کی گمشدگی کی اطلاع 7 اور 8 دسمبر کی درمیانی رات کو ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر میں پہنچی اور سب کا گمان یہی تھا کہ ہندوستانی فوج انہیں گرفتار کر چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ 8 دسمبر 1971 (لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کی شہادت)
رنگ پور بوگرہ روڈ پر ہندوستانی سپاہ کےپہنچنےسے اس علاقہ میں تعینات پاکستانی ڈویژن دوحصوں میں کٹ گیاتھا۔ شمالی بریگیڈ رنگ پورمیں اورجنوبی بریگیڈبوگرہ میں اوریہی ہندوستانی منصوبہ تھا۔ پاکستانی ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹرنےجوابی حملےکےلیے شمال سے بریگیڈیئر نعیم اور جنوب سے بریگیڈیئر تجمل کی سربراہی میں دو ٹاسک فورسز بنانے کا حکم دیا۔
"میں نےڈھاکہ ڈوبتےدیکھا‘میں بریگیڈیئرصدیق سالک لکھتے ہیں کہ "جب اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی حملےکی کوئی خبرنہ آئی توجواب طلبی کی گئی۔ ’بریگیڈیئرنعیم یہی کہتےرہےکہ وہ حملےکاپلان بنارہےہیں۔ ادھربریگیڈیئر تجمل نےخودجنوبی ٹاسک فورس کی قیادت کرنےکےبجائے 32 بلوچ کےلیفٹیننٹ کرنل سلطان سےپیرگنج جانےکوکہا۔ جب اس میں تاخیر ہوئی تو بریگیڈیئر تجمل نے لیفٹیننٹ کرنل پر خوب لعن طعن کی، یہاں تک کہ بزدلی کا الزام بھی لگایا۔ اس پر کرنل سلطان کو اتنا طیش آیاکہ وہ فوراً اپنی پلٹن ٹرکوں میں لاد کر پیر گنج روانہ ہوگئے"۔
لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کو برگیڈیئر تجمل حسین ملک کی جانب سے دشمن کے جبڑے کے بیچ سے جنرل نذر حسین کی باحفاظت واپسی کا ٹاسک ملا جو کہ ہندستانی فوجی کی پوزیشن، برتری اور پاکستانی فوج کے اس سیکٹر میں دو حِصوں میں تقسیم ہو جانے کے باعث ناممکن تھا۔ انہوں نے رات کی تاریکی میں 32 بلوچ کو لیڈ کرتے ہوئے اپنی بٹالین کے ساتھ پیر گنج کی طرف پیش قدمی کی لیکن تب تک ہندستانی فوج کی جانی مانی گورکھا رائفلز کی بٹالین وہاں مورچے بنا کر پوزیشنیں سنبھال چکی تھی۔ منصوبہ بندی کےبغیرعجلت میں کئے گئے آپریشن میں 32 بلوچ کی تمام کی تمام ہراول کمپنی کوگورکھابٹالین نےبھون کر رکھ دیا۔ باقی پلٹن پسپاہوگئی اورکرنل سلطان لاپتہ ہو گئے اور انہیں مسنگ پرسن سمجھا گیا ۔ 16 دسمبرکواپنی فہرستیں سیدھی کرتےہوئے پاکستان نےانہیں میدان جنگ میں گمشدہ قرار دیتےہوئے کہا کہ ممکنہ طور پروہ قیدی بنالیےگئے۔ پھِر اگلے سال 29 جولائی 1972 کو پیرگنج پر کیے حملے میں ان کے شہید ہونے کی تصدیق بھی کردی۔ کرنل سلطان کی بہادری اور شہادت کو نہ تو پاکستانی فوج کی جانب سے تسلیم کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی فوجی سے نوازا گیا۔ ان کی بٹالین کے زندہ رہ جانے والے باقی افسروں نے خود ہی اپنے آپ کو فوجی اعزازات کے لئے نامزد کیا اور یہ اعزازات حاصل بھی کر لئے۔ برگیڈیئر تجمل جو کہ بعد میں جنرل تجمل بن گئے تھے انہوں نے اپنے نام نہاد کارناموں پر The Story of my Struggle
کے نام سے کتاب بھی لکھی اور برگیڈیئر صدیق سالک کو ناٹور سیکٹر کے حالات کی درست آگاہی بھی نہ دی گئی۔
جولائی 1972 کو لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کی شہادت کی تصدیق اور 1977 میں برگیڈئیر صدیق سالک کی کتاب کی اشاعت کے بعد کرنل سلطان کی کہانی بظاہر ختم ہو گئی تھی۔
لیکن رب کی شان بے نیاز ہوتی ہے۔
کیمبل پور کے داماد لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کی داستان شجاعت کا یہاں سے آغاز ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی تحصیل چکوال کے مشہور ایتھلیٹ عبدالخالق کو 2013 سے قبل پاکستان میں کوئی جانتا تک نہ تھا۔ یہ وہی عبدالخالق ہیں جنہوں نے 1954ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 100 میٹر دوڑ میں نیا ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا اور 100 میٹر کے فاصلے کو صرف 10.6 سیکنڈز میں عبور کر لیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ بھارت کے نامور اتھلیٹ لیوے پنٹو کے پاس تھا جنھوں نے یہ فاصلہ 10.8 سیکنڈز میں عبور کیا تھا۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواھر لعل نہرو نے 21 سالہ عبد الخالق کو انعام دیتے ہوئے " فلائنگ برڈ آف ایشیا" یعنی "ایشیا کا اڑنے والا پرندہ" کا خطاب بھی دیا۔
اور پھر ہندوستان نے 2013 میں "بھاگ ملکھا بھاگ " کے نام سے اپنے ایتھلیٹ ملکھا سنگھ پر بالی وڈ فلم بنائی تو اور اس میں پاکستانی ایتھلیٹ عبدالخالق کے زِکر سے پاکستانی قوم کو معلوم ہوا کہ پاکستان نے کیسا جانباز قسم کا ایتھلیٹ پیدا کیا تھا۔
بالکل اسی طرح
جنگ کےبعدانڈین اخبار"دی ہندو" میں ایک کہانی چھپی جس میں ایک دلیرپاکستانی افسرکاذکرتھا۔
"حملہ آوروں کےجتھےمیں سب سےآگے سنگین لہراتا وہ افسر پیرگنچ کےدفاع میں لگی 2/5 گورکھا رائفلزکےمورچوں کےعین قلب میں گھس آیاتھا کہ دست بدست لڑائی میں گورکھا کپتان جتندرناتھ کی خکری نے اس کا کام تمام کردیا۔افسر کے رینک اور وردی خون مین لت پت تھی اور ایک پل کو ہندوستانی سپاہ سمجھی کہ انہوں نے 205 بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیئر تجمل کو مارگرایا ہے۔ تلاشی لینے پر برآمد ہوئے کاغذات سے معلوم ہوا کہ وہ حملہ آور پلٹن 32 بلوچ کے کمانڈنگ آفیسر پاکستان آرمی نمبر 4863 لیفٹیننٹ کرنل سلطان ہیں۔
اخبار نے لکھا کہ جب کرنل راجہ سلطان کو لحدمیں اتارا جارہاتھا تو فرط جذبات میں گورکھا پلٹن کے جے سی او نے خون آلود رینک، پھول اور چاندتارا قبر میں رکھ دیے کہ اوپر والے کو بھی خبر ہو کہ ہمارا سلطان بہادر ایک لیفٹیننٹ کرنل تھا۔
خکری کاکاری وارا پنے سینےپر سہنے سے پہلےکرنل سلطان اپنی سنگین سے ہمارے گورکھا کپتان کو دست بدست اور دو بدو لڑائی میں ایک مہلک گھاؤ لگا گئے تھے اور کرنل کے دئیے زخموں سے لڑتے 29 سالہ گورکھا کیپٹن جتندرناتھ بھی اسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے اور انہیں ہندوستانی فوجی اعزاز "ویرچکرا" سے نوازا گیا"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر گورکھا کیپٹن جتندرناتھ کرنل سلطان کے ہاتھوں ہلاک نہ ہوا ہوتا تو شاید پاکستانیوں کو کرنل سلطان کا نام تک معلوم نہ ہوتا۔
ہندوستانی اخبار سٹیٹس مین میں لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود کو ان الفاظ میں یاد کیا گیا
"پرانے دنوں کی ہینڈ ٹو ہینڈ فائٹ کی یادیں ذہن میں آتی ہیں، جہاں پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ میں سے ایک سی او کی ایک ہندوستانی کیپٹن کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ بھارتی کیپٹن بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے جو پاکستانی کرنل کے زخموں کی تاب نہ لا سکے، کرنل پستول اور بھارتی کیپٹن سٹین گن سے لیس تھا۔ ایک ہندوستانی جے سی او نے انہیں بادشاہوں کا سلطان اور سلطانوں کے بادشاہ کے نام سے یاد کیا۔ (دی سٹیٹس مین)"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسرا باب
مغربی پاکستان
پاکستانی فوج کی ڈاکٹرائن میں ہمیشہ سے یہ بات واضح تھی کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان کی مضبوط فوجی برتری سے ہو گا اور اگر ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں کوئی گڑبڑ کی تو مغربی پاکستان سے ہندوستان پر بھرپور بری و فضائی حملہ کر کے اسے سبق سکھایا جائے گا۔
اسی حِکمت عملی کے تحت پاکستا ن ایئر فورس نے 3 دسمبر 1971 کو آپریشن چنگیز خان کے نام سے ہندوستان کے 8 ایئر بیس پر اچانک فضائی حملہ کر کے پاک بھارت جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
پاکستانی منصوبہ یہ تھا کہ جس طرح 1967 کی عرب اسرائیل 6 روزہ جنگ میں اسرائیل نے اچانک حملہ کر کے شام اور مصر کی فضائیہ کو تباہ کر کے مکمل فضائی برتری حاصل کر لی تھی ، ویسے ہی ہنوستان کی فضائیہ کو شروع میں ہی ناکارہ کر کے فضائی برتری حاصل کر لی جائے۔
لیکن پاکستا ن ایئر فورس سوائے امرتسر رن وے ،کچھ راڈار اور ایک فضائی جہاز کو تباہ کرنے کے علاوہ ، کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی۔
مغربی پاکستان میں، شکر گڑھ کو پار کر کے ،پٹھان کوٹ اور کشمیر کے بیچ شاہراہ پر قبضہ کر کے ہںدوستان کا کشمیر سے زمینی رابطہ توڑنا بھی ہمیشہ سے پاکستانی فوجی حِکمت عملی کا حِصہ تھا۔
ہندوستان نے حملے کے لئے اپنی بری فوج کی بہت بڑی تعداد مشرقی پاکستان کے محاز پر تعینات کی ہوئی تھی۔ مغربی پاکستان بارڈر پر تاریخ میں پہلی اور شاید آخری بار پاکستان کو بھارت پر عددی برتری حاصل تھی۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ اس سب کے باوجود ، مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی ہندوستان کے ہاتھوں ایک اور شکست اور ایک اور رسوائی پاکستان کے گلے کا ہار بننے والی تھی۔
ابھی پاکستان شکر گڑھ کو پار کر کے ہںدوستان کا کشمیر سے زمینی رابطہ توڑنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ہندوستانی بری فوج نے حیران کن طور پر پہلے حملہ کر کے پاکستانی حدود کے اندر تیزی سے داخل ہو کر شکر گڑھ سیکٹر کے 500 دیہات اور سیالکوٹ سیکٹر کے 98 دیہات پر بغیر کسی خاص مزاحمت کے قبضہ کر لیا۔
6 سے 15 دسمبر تک پاکستانی فوج نے اپنے علاقہ واپس لینے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن متعدد ٹینک ، آرمرڈ گاڑیاں تباہ کروانے اور جوانوں کی شہادتوں کے باوجود ناکام رہی۔
سولہ 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان میں جنگ بندی کے وقت ہندوستانی افواج پسرور کے پاس پہنچنے والی تھیں اور انڈین دستے مرالہ ہیڈورکس سے ڈیڑھ ہزار گز کے فاصلے پر پہنچ چکے تھے۔
محمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں ون کور کے کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل ارشاد احمد خان جن کے کمانڈ ایریا میں کنٹرول لائن سے سیالکوٹ تک کا دفاع شامل تھا اور جنہوں نے شکر گڑھ کے 500 دیہات بلامزاحمت دشمن کے حوالے کر دیے ، کے خلاف کاروائی کا کہا گیا تھا۔
اسی رپورٹ میں سیالکوٹ سیکٹر میں پھکلیا کے علاقے میں 98 دیہات بغیر مزاحمت کے چھوڑ دینے اور اس واقعہ کو جی ایچ کیو کے عِلم میں نہ لانے پر میجر جنرل عابد علی زاہد کے خلاف کاروائی کی بھی سفارش کی گئی تھی۔
آج تک ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو درسی کتب یا جرائد میں مغربی پاکستان کی اتنی بڑی ہزیمت کی کوئی آگاہی نہیں دی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سولہ 16 دسمبر 1971 (بڑا پنڈ-ظفر وال سیکٹر-شکر گڑھ-مغربی پاکستان)
سولہ 16 دسمبر کا سورج طلوع ہوا تو مشرقی محاذ پر جنرل نیازی کی زیرِ قیادت 93،000 پاکستانی فوج ہندوستانی جرنیل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی اور مغربی محاذ پر پاکستان اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کے لئے بغیر منصوبہ بندی اور عجلت میں پڑاپنڈ ظفروال سیکٹر میں ایک بڑی فوجی کاروائی کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
سولہ 16 دسمبر کو لڑائی کے آغاز میں ہی پاکستان کو 8 پاکستانی ٹینکوں کی تباہی اور 2 آفیسرز کی شہادت کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی دن پاکستان کی جانب سے اپنا علاقہ واپس لینے کی دوسری کوشش میں انڈین اینٹی ٹینک اور آرٹلری فائرنگ سے پاکستان کو 20 ٹینکوں کی تباہی اور 3 افسروں کی شہادت اور متعدد افسروں کے شدید زخمی ہونے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
ہندوستان کی جانب سے سیکنڈ لیفٹیننٹ ارون کھیترپل کو اس کاروائی پر ہندوستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز پرم ویِر چکرا سے نوازا گیا۔ وہ پنجابی ہندو تھے اور تقسیم سے قبل سرگودھا کے رہائشی تھے ۔ اسی لڑائی میں پاکستانی علاقوں پر قبضہ کے دوران بہادری کے جوہر دکھانے پر ہندوستان کی جانب سے میجر ہوشیار سنگھ جو کہ سکھ جٹ تھے کو بھی ہندوستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز پرم ویِر چکرا سے نوازا گیا۔
سولہ 16 دسمبر کو اپنا علاقہ واپس لینے کی تیسری کوشش میں پاکستا ن کو 14 میں سے 10 ٹینکوں کی تباہی اور سکوارڈن کمانڈر سمیت دو افسروں کی شہادت کا نقصان اٹھانا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر زوالفقار احمد شیخ شہید
سولہ 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی رات اپنے 38 ٹینکوں کی مکمل تباہی اور متعدد افسرا ن و سکوارڈن کمانڈر کی شہادت کے باوجود 8 برگیڈ اور 24 برگیڈ کمانڈرز کی نا اہل اور غیر حقیقت پسندانہ قیادت نے 17 دسمبر کی صبح 4:30 بچے تھرڈ ٹینک رجمنٹ اور کیولری (آرمرڈ گاڑیوں) کی مدد سے 35 انفنٹری کو اس محاذ پر جھونکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انفنٹری حال ہی میں تسکیل دی گئ تھی اور چمن میں تعینات تھی. اسے ہنگامی بنیادوں پر شکر گڑھ سیکٹر بلوایا گیا اور اسے اس علاقے کے بارے میں کوئی آگاہی نہ تھی.
رات 11 بجے 35 انفنٹری کو لیڈ کرنے والے کمانڈنگ آفیسر لیفٹننٹ کرنل اکرم راجہ اور کمپنی کمانڈرزرمیجر زوالفقار احمد شیخ، میجر پرویز فاروق کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
سترہ 17 دسمبر کی صبح عین حملے کے وقت آرمرڈ برگیڈ کمانڈر نے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے حملے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ لیکن انفنٹری برگیڈ کمانڈر نے جو کہ 24 برگیڈ کے متعدد آفیسرز کے بقول اپنے ہیڈ کوارٹر سے باہر قدم نہیں رکھتے تھے، نے نئی بنائی گئی اور نہایت اعلی کارکردگی کی حامل 35 FF انفنٹری کو بغیر ٹینکوں کو مدد کے صبح 5:30 دن کی روشنی میں اس محاذ پر جھونکنے کا حکم دے دیا جس پر پاکستان کی دو ٹینک رجمنٹس تک تباہ ہو چکی تھیں۔
سترہ 17 دسمبر کی صبح 5:30 کا وہ منظر ہندوستانی فوج کے لئے حیران کن تھا جب انہوں نے بنا کسی آرٹلری فائر سپورٹ کے 35 FF انفنٹری کو کمانڈنگ آفیسر لیفٹننٹ کرنل اکرم راجہ اور کمپنی کمانڈرز میجر زوالفقار احمد شیخ و میجر پرویز فاروق کی قیادت میں دیوانہ وار اپنی طرف بڑھتے پایا۔
اس وقت رات کا دھندلکا چھٹ چکا تھا، ہندوستان کے ایک ٹینک بٹالین پلس ، ایک انفنٹری بٹالین اور بے شمار ہتھیاروں کے سامنے 35 FF انفنٹری کے جوان اچانک کورز سے باہر نکلے اور تیزی سے ہندوستانی ٹینکوں اور سپاہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی ٹینکوں اور آرٹلری نے ان دیوانہ وار بھاگتے جوانوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اگرچہ یہ ایک خودکش کو شش تھی اور پاکستانی جوانوں کا باقاعدہ قتل عام ہو رہا تھا لیکن پاکستانی جوانوں نے اپنی کوشش جاری رکھی اور کچھ جوان ہنوستانی ٹینکوں سے صرف 50میٹر کی دوری پر شہید ہوئے۔ پاکستان نے اپنی اس بہادر بٹالین کو بنا کسی مقصد کے قربان کر دیا ۔ 17 دسمبر کی رات 8 بجے پاکستانی اور ہندوستانی افواج کا مغربی محاذ پر بھی سیز فائر ہو گیا اور اگلے دن یعنی 18 دسمبر کو 35 FF انفنٹری کے کمانڈنگ آفیسر،سیکنڈ ان کَمانڈز سمیت 80 فوجی جوانوں کی لاشیں پاکستان کے حوالے کر دیں۔ میجر زوالفقار احمد شیخ شہید کو کیمبل پور لا کے پرانے قبرِستان (ریلوے پٹری سے قبل والا) میں دفنایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف اس ایک شکرگڑھ کے محاذ پر ہندوستان نے اپنی بری فوج کے دستوں کو 2 سب سے بڑے فوجی اعزاز "پرم ویر چکرا" ، 6 دوسرے نمبر کے فوجی اعزاز "مہاویر چکرا اور 4 تیسرے نمبر کے فوج اعزاز "ویر چکرا" سے نوازا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے اس محاذ پر کوئی نشان حیدر نہیں دیا گیا اور صرف ایک ہلال جرات عطا کیا گیا۔
ہندوستانی فوج کے اس محاذ پر 3 گرینیڈیئرز کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل وی پی آئری نے نے 35 FF کے جرات مندانہ ایکشن اور بہادری پر پاکستانی حکام کو خط بھی لکھا تھا جس میں 35 ایف ایف کو اعلی فوجی اعزاز دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سترہ 17 دسمبر 2023 (اٹک)
میجرشیخ نسیم صدیقی جی : اٹھ جائیں آپ کے ناشتے کا وقت ہو گیا ہے لگتا کہ آپ ابھی تک اپنے دوستوں کی یادوں میں کھوئے ہوئے۔
نعیمہ ، 8 دسمبر کو کرنل سلطان کی برسی تھی۔ اس کی تو ہم میت تک پاکستان واپس نہ لا سکے۔ کل سقوط ڈھاکہ کی یادیں تھیں اور آج 17 دسمبر کو میجر ذوالفقار کی برسی ہو گی۔ میں تو ساری رات یہ ہی سوچتا رہا کہ ہمارے کیمبل پور میں تو سلطان اور ذوالفقار کے نام سے کوئی سڑک ، کوئی یادگار، کوئی پارک،کوئی چوک نہیں ہے۔
کاش ہمارے ارباب اختیار اور کیمبل پور کے عوام "کیمبل پور کے بیٹے اور کیمبل پور کے داماد" کی شہادت اور وطن کے لئے دی گئی قربانی کی شایان شان پذیرائی کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزارشات
ایک 1 : میجرشیخ نسیم صدیقی صاحب کا 12 جنوری 2024 کو 96 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا اور اپنی وفات سے چند دن قبل انہوں نے اپنے فرزند لیفٹننٹ کرنل احمد کے زریعے میرے سے فون پر بات کر کے اس تحریر کا آئیڈیا دیا تھا۔
دو 2 : خصوصی شکریہ ڈاکٹر شہزاد میر عالم اور اسماء کرن
campbellpur , campbellpore , campbelpur , campbelpore , attock , campbellpur ka beta aur campbellpur ka damad
کیمبل پور , کیمبلپور , اٹک
#Campbellpur #Campbellpore #Campbelpur #Campbelpore #Attock
#کیمبل_پور
#کیمبلپور
#اٹک
