Campbellpur (Attock) of 1960s, 1970s and 1980s
ساٹھ ، ستر اور اسی کی دہائی کا کیمبل پور اٹک . . .
اٹک اس وقت کیمبلپور ہوا کرتا تھا۔ اقبال ہوٹل، انڈس ریسٹورنٹ اور لالہ فرمان خان کا اباسین ہوٹل محفلوں کے مرکز تجلیات ہوتے تھے ۔ نوجوانون کا پسندیدہ ہوٹل اقبال ہوٹل تھا۔ اور اگر اس زمانے سے دس سال اور پیچھے جاٸیں تو شیخ امر الہی ایڈووکیٹ کے بھائی کا تاج ہوٹل فوارہ چوک کے شمال مغربی کونے میں تھا. جہاں لتا اور نور جہاں کی آواز میں دلکش گانے ریکارڈ پلے پر فضاٶں سنگیت کے رنگ بکھیر رہے ہوتے تھے. تاج ہوٹل کے بالمقابل فوارہ چوک کے جنوب مغربی کونے میں لالہ مجید خان علیزئی کا شہباز ہوٹل تھا. تولہ رام حویلی کے پاس والے کالا چٹاہوٹل کے اسٹائل کے ہوٹل اس وقت اسلام آباد میں بھی کم ہی تھے. پروفیسر اعظم صدیقی، پروفیسر قاضی وجاہت، پروفیسر حامد بیگ ، پروفیسر سعید گل، پروفیسر انور جلال اور کنور خالد محمود اور جناب احمد وحید اختر ان محفلون کے روح رواں رہے.
پیپلز ہارٹی والوں کامرکز فوارہ چوک میں ڈاکٹر شہزاد اور ڈاکٹر طاہر کا کریسنٹ میڈیکل ہال ہوتا تھا۔ ملک حاکمین ، عاشق کلیم، منصور زمان، سردار نوازش، قاضی صفدر وغیرہ جمع ہوتے اور خوب بحث مباحثہ ہوتا تھا سردار صاحب اور قاضی صاحب پیپلز پارٹی کے مخالف تھے. سامنے خوبصورت چارپاٸیوں پر گاٶ تکیہ لگے میان غلام ربانی کی محفل سجی ہوتی جس میں شیخ اعجاز ایڈووکیٹ، شیخ محمود وغیرہ ہوتے. آگے دارالالباس میں استاد خیر دین کی محفل ہوتی تھی۔ جس میں پرانے مسلم لیگی ڈیرہ جماۓہوتے. ساتھ ہی خواجہ شریف صدر سٹی مسلم لیگ کی دکان تھی۔ جہان آج کل شوکت خانم لیبارٹری قاٸم ہے. اس زمانے میں شہر کی متحدہ اپوزیشن کاگڑھ چوہدری عبداللہ صاحب ایڈووکیٹ کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ جہاں شہر بھر سے ہرمکتبہ فکر کے لوگوں کا اژدھام ہوتا تھا۔ جن میں سیاسی سماجی اور مذہبی شخصیات شامل ہوتی تھیں. عبد الحمید سہروردی صاحب ایڈووکیٹ کا ڈیرہ مسلم لیگ کنونشن کامرکز تھا جو اس وقت سرکاری حکمران جماعت تھی۔ یہاں چئیرمین ماسٹر رشید الرحمان، خان افضل خان، شیخ محمد اقبال ایڈووکیٹ وغیرہ محفل جماتے تھے. جبکہ انقلاب کے داعی اپنے صدر ملک پرویز کی قیادت میں نیشنل بنک فوارہ چوک کے اوپر بیٹھتے تھے۔ اس محفل میں ملک پرویز صدر، میجر مرتضیٰ مرحوم سیکرٹری، شیخ اشتیاق، شیخ غلام صمدانی، نسیم اخونزادہ، محمد سعید، سعید انجم، عارف نقوٕی، سید علی اکبر، شیخ خالد۔، راشد درانی ، رب نواز خان علیزئی حضرو، ربنواز خان مرزا وغیرہ شامل ہوتے. استاد فضل دین کا ہمدرد پریس جامع مسجد روڈ پر واقع تھا۔ یہاں ہم نےاس وقت کی پاکستان کی عظیم سیاسی شخصیات کو بیٹھے دیکھا جن میں جناب ذوالفقار علی بھٹو ، محمود علی قصوری ، حیات خان شیرپاٶ، حقنواز خان گنڈاپور، کامریڈ طفیل وغیرہ شامل ہیں.
اب اٹک اپنا اصل تشخص کھو چکا ہے، یہ خیبر پختون خواہ کی سابقہ ایجنسیوں کے لوگوں کی پسندیدہ جگہ بن چکا ہے.
attock , campbellpore , campbellpur , purana attock , old attock
اٹک , کیمبل پور , کیمبلپور , کیمپبل پور , کیمپبلپور , کیمل پور , کیملپور , پرانا اٹک
#Attock #Campbellpur #Campbellpore #OldAttock #PuranaAttock
#اٹک
#کیمبل_پور
#کیمبلپور
#کیمپبل_پور
#کیمپبلپور
#کیمل_پور
#کیملپور
#پرانااٹک
#پرانا_اٹک
