ضلع اٹک کی تاریخ اور معلومات
مغرب میں صوبہ پنجاب کا آخری ضلع اٹک قدیم ادوارمیں برعظیم پاک وہند کا گیٹ وے تھا۔تمام بیرونی حملہ آوراسی علاقے سے ہندستان میں داخل ہوتے رہے۔1904ء میں ضلع اٹک معرض وجود میں آیا۔برطانوی حکومت نے تلہ گنگ،راولپنڈی ،فتح جنگ ،اورپنڈی گھیب کے علاقوں پر مشتمل یہ ضلع قائم کیااور اسے ’’کیمبل پور‘‘ کانام دیا۔ انگریز فیلڈمارشل سرکولن کیمبل سے منسوب یہ نام قیام پاکستان کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کے دورتک چلتارہا۔1978ء میں اسے تبدیل کرکے اٹک کردیاگیا۔سرکولن کیمبل 1857ء کی جنگ آزادی میں ہندستان کی برطانوی افواج کے سالارتھے۔
راولپنڈی سے 85کلومیٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ضلع اٹک کا صدرمقام اٹک شہرہے۔خوب صورت،پرسکون اور صاف ستھرا یہ شہر ایک ماسٹر پلان کے تحت بنایاگیاہے۔اس کا تجارتی مرکز شہر کے قلب میں واقع ہے جہاں سیاسی اہمیت کا حامل فوارہ چوک موجودہے۔فوارہ چوک کے چاروں اطراف شہرکے کاروباری مراکز ہیں۔حضرو،فتح جنگ،جنڈ،پنڈی گھیب اور حسن ابدال دیگر تحصیلیں ہیں۔
تحصیل حسن ابدال میں عظیم عسکری درسگاہ کیڈٹ کالج حسن ابدال واقع ہے۔یہیں سکھ مذہب کی عبادت گاہ گوردوارہ پنجہ صاحب ،مغل عہد کا ایک مقبرہ لالہ رخ ،اور ایک ولی اللہ باباولی قندھاری کامزار بھی ہے۔سکھ مذہب کے بانی باباگرونانک سولہویں صدی عیسوی میں اٹک تشریف لائے تھے ،ان کی یادگار میں گوردوارہ قائم کیاگیا۔اسی گوردوارے میں ایک پتھر پر باباگرونانک کا پنجہ نقش ہے جس کی مناسبت سے اسے پنجہ صاحب کہاجاتاہے۔
وادی چھچھ ضلع اٹک کا ایک اہم اور تاریخی علاقہ ہے۔یونانی جرنیل سکندر مقدونی اسی علاقے کے راستے ہندستان میں داخل ہواتھا۔کرنل شجاع خانزادہ شہید کاتعلق چھچھ سے ہی ہے۔سابق ایم این اے ملک اسلم خان مرحوم اور ان کے صاحبزادے سابق وزیر مملکت ملک امین اسلم بھی چھچھ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔
دریائے سندھ ضلع اٹک کو سیراب کرتاہوا گزرتاہے۔اٹک ایک زرعی علاقہ ہے۔گندم اور مونگ پھلی بڑی زرعی پیداوارہے۔زمینی خاصیت کے اعتبارسے اٹک ریتلاعلاقہ ہے۔یہاں موسم گرمیوں میں شدید گرم اور جاڑوں میں انتہائی سرد رہتاہے۔
دفاعی اعتبارسے ضلع اٹک انتہائی حساس علاقوں میں شامل ہے۔اٹک کینٹ برطانوی دورکی چھاؤنی ہے ۔اس وقت پاک فوج کے توپ خانے یعنی آرٹلری کاہیڈ کوارٹریہیں ہے۔پاک فضائیہ کا اہم ترین مرکز ’’ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ‘‘ بھی ضلع اٹک میں ہے۔دوسری عالمی جنگ میں یہاں برطانوی فوج کا ہوائی اڈہ تھا۔70ئی کی دہائی میں اسے کمپلیکس بنادیاگیا جس میں ائربیس ،جہازسازی ،ایوی ایشن کے آلات اور راڈارسازی کے کارخانے اور جنگی طیاروں کی ری بلڈ فیکٹری شامل ہے ۔پاکستان آرڈننس فیکٹریز کا ایک اسلحہ سازیونٹ واہ فیکٹری بھی اٹک میں واقع ہے۔فتح جنگ میں کالاچٹا رینج بھی حساس تزویراتی مرکز ہے۔
قومی اسمبلی کے لیے ضلع اٹک میں تین حلقے این اے 57تا59ہیں۔پنجاب اسمبلی کے لیے پانچ نشستیں پی پی 15تا19 ضلع اٹک کوحاصل ہیں۔اب تک تین سیاست دان مرکزی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے احمد وحید اختر مرحوم اٹک سے پہلے سینیٹرتھے۔وہ سینیٹ آف پاکستان کے اولین ارکان میں سے تھے۔1973ء میں ایوان بالا وجود میں آیا تو احمد وحید اختر بھی اس کے رکن بنے۔ان کے بعد پیپلزپارٹی کے ہی ملک حاکمین خان سینیٹر بنے۔پھر ق لیگ کے سردارمحمود خان ایڈووکیٹ کو سینیٹ کا رکن بننے کااعزازملا۔وہ شوکت عزیزکی جگہ ایوان کے رکن منتخب ہوئے تھے جو وزیر اعظم بنے تو سینیٹ میں ان کی نشست خالی ہوئی۔1945-46ء میں غیر منقسم ہندستان کے تاریخی انتخابات میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے لیے اٹک شمالی حلقہ سے مسلم لیگ کے امیدوار سردارممتازعلی خان کامیاب ہوئے تھے۔اٹک مرکزی حلقہ سے یونینسٹ پارٹی کے نواب سرمحمد نوازخان بلامقابلہ جیتے۔
گورنمنٹ کالج اٹک ،اس ضلع کی ایک تاریخی درس گاہ ہے۔1924ء میں اسے انٹر کالج کادرجہ ملا۔1942ء میں ڈگری ہوا اور1992ء سے اسے پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ حاصل ہے۔اس درس گاہ میں تعلیم سلسلہ 1880ء میں شروع ہواتھا۔احمد ندیم قاسمی،منوبھائی،ضمیرجعفری ،شورش ملک،جنرل عبدالعلی ملک،جنرل اختر ملک،جنرل جاوید اشرف قاضی،ائرمارشل نورخان سمیت بے شمار نامورشخصیات نے یہیں تعلیم پائی۔برعظیم کے نامور عالم ڈاکٹر غلام جیلانی برق یہاں پڑھاتے رہے،ان کاتعلق بھی اٹک کے گاؤں بسال سے ہی تھا۔وہ کئی سال تک کالج کے مجلہ ’’ مشعل ‘‘ کے نگران رہے۔کامسیٹس اور پیر مہرعلی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے کیمپس بھی اٹک شہر میں واقع ہیں۔خواتین کے لیے گورنمنٹ کالج قائم ہے۔
ضلع اٹک میں تیل اورگیس کے وسیع ذخائرپائے جاتے ہیں۔پانی سے بجلی پیداکرنے کے لیے بنائے گئے تاحال آخری بڑے ڈیم غازی بروٹھاہائیڈل پاور پراجیکٹ کا بجلی گھر بھی اٹک کے گاؤں بروٹھامیں ہے ،اس ڈیم کی نہر کا آغاز خیبر پختونخواکے علاقے غازی سے ہوتاہے ۔اسی منابست سے یہی منصوبہ غازی بروٹھاڈیم کہلاتاہے۔یہاں سے 1400میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے۔
اٹک کے مقام ’’ اٹک خورد‘‘ پر مغل شہنشاہ اکبر اعظم کا تعمیر کروایا ہوا قلعہ بھی ہے جسے ’’ اٹک قلعہ‘‘ کہاجاتاہے۔اب یہ قلعہ فوج کے پاس ہے۔موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو جنرل مشرف نے اسی قلعہ میں اسیر رکھاتھا۔اٹک شہرکے ایک مقام ’’ نیلاب‘‘ میں دریائے سندھ کے کنارے وہ جگہ ہے جہاں سے چنگیزخان کولکارنے والے خوارزم شاہی سلطنت کے حکمران سلطان جلال الدین خوارزم شاہ نے منگول فوج کے گھیرے میں آنے پر اپنے گھوڑے کو کئی فٹ بلند چٹان سے دریا میں ڈال دیا تھااور دوسرے کنارے پر جانکلا۔اس منظر کو دیکھتے ہوئے چنگیز خان کی زبان سے بے اختیار دادوتحسین کے کلمات نکلے تھے۔تاریخ میں اس واقعہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
پشاور میں بڈھ بیر ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے کیپٹن اسفندیار بخاری کا تعلق اٹک شہرسے ہے ۔